کاروار2؍اگست (ایس او نیوز)جون کے مہینے میں سمندر کے اندر پھنسے ہوئے جس "انفی نیٹی" جہاز کو کوسٹل گارڈ نے بچایا تھا، وہ گزشتہ دو مہینوں سے کاروار بندرگاہ میں لنگر انداز پڑا ہوا ہے۔ کہتے ہیں کہ کوسٹل گارڈ نے ا س بھاری جہاز کو بچانے کا خرچ 90لاکھ روپے طلب کیا ہے اس لئے "انفی نیٹی" جہاز کے مالکوں نے معاملے کو ممبئی کی عدالت میں پہنچادیا ہے۔اب جب تک عدالت میں کوئی فیصلہ نہیں ہوتا تب تک اس جہاز کو کاروار بندرگاہ میں روکے رکھنا ضروری ہوگیا ہے۔
خیال رہے کہ 10جون کو سمندری طوفان میں پھنسے اس جہاز کو دیوگڑھ لائٹ ہاوس کے قریب سے کوسٹل گارڈ نے بحفاظت کاروار بندرگاہ تک لانے کے لئے 2ٹگ بوٹس کا استعمال کیا تھا۔ایم وی "انفی نیٹی" نامی اس جہاز میں ایک ہزار ٹن تارکول کے بیرل لدے ہوئے تھے۔اور سمندری طوفان کی وجہ سے جہاز کو پہنچنے والے نقصان کے نتیجے میں اس کا سمندر میں غرق ہونا یقینی تھا۔ رات بھر دو بھاری پمپ کا استعمال کرتے ہوئے جہاز میں بھرنے والے پانی کا مسلسل خالی کیا جاتا رہا۔ پھر کوسٹل گارڈ کی نگرانی میں اسے بندرگاہ تک لایا گیا تھا۔جس سے بہت بڑا نقصان ٹل گیا تھا۔چونکہ جہاز کی تہہ میں سوراخ ہونے کی وجہ سے اس میں پانی داخل ہورہا تھا۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے ممبئی سے خصوصی ماہرین کو طلب کیا گیااور دو مہینے تک اس کی مرمت کی گئی۔ابھی ایک ہفتے پہلے ہی مرکنٹائل میرین ڈپارٹمنٹ نے اس کی جانچ کرکے اسے درست حالت میں ہونے کی رپورٹ دی ہے۔
لیکن بتایا جاتا ہے کہ مسلسل 48گھنٹوں تک جہاز کو اپنی نگرانی میں رکھنے اور اسے بحفاظت بندرگاہ تک لانے کے لئے کوسٹل گارڈ نے 90لاکھ روپے کا بل بنایا ہے۔اس رقم کو حد سے زیادہ بتاتے ہوئے اس کے خلاف جہاز کے مالکان نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔اور یہ معاملہ ابھی تفتیشی مرحلے میں ہے ۔لہٰذا جب تک کوئی فیصلہ نہیں آتا تب تک "انفی نیٹی" کو کارواربندرگاہ میں ہی لنگر انداز رہنا ہے۔